کسانوں کا احتجاج

زمیں پہ ہیں گل و لالہ فلک پہ ماہ و نجوم
مرا شمار یہاں بھی نہیں وہاں بھی نہیں
کسانوں کا احتجاج
مرکز کی مودی حکومت نے کسانوں کے نمائندوں سے مذاکرات کا آغاز کیا ہے لیکن یہ بات چیت غیرمختتم رہی۔ اب آئندہ 3 ڈسمبر کو دوبارہ بات چیت ہوگی۔ مودی حکومت کے تعلق سے شکایت ہے کہ عوامی فلاح و بہبود کی پالیسیوں کے ساتھ ترقی دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن گذشتہ 7 سال سے اس کی پالیسیاں عوام کو تکالیف دینے والی ثابت ہورہی ہیں۔ عام آدمیوں کو مالیاتی پریشانیوںمیں جھونک کر امیروں کو فائدہ پہونچایا جارہا ہے۔ کسانوں کے خلاف بھی زرعی پالیسیاں اور قانون سازی کی گئی جس سے ملک کے لاکھوں کسانوں کو شدید نقصان پہونچایا گیا اور امیروں کو فائدہ پہونچایا جارہا ہے ۔ پنجاب اور ہریانہ کے لاکھوں کسان گذشتہ ایک ہفتہ سے دہلی کی سرحد پر احتجاج کررہے ہیں ۔ کسانوں کو دہلی تک پہونچنے نہیں دیا جارہا ہے ۔ ناکہ بندی ، پولیس لاٹھی چارج اور پانی کی پچکاریوں کے ذریعہ معصوم کسانوں کو ظلم کا شکار بنایا گیا۔ کسان برادری کے مسائل کی یکسوئی وقت کا تقاضہ ہے ۔ یہی کسان ہیں جو ملک کو اناج پیدا کر کے دیتے ہیں ۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے مشروط مذاکرات کی پیشکش کی جس کو کسانوں نے مسترد کردیا ۔ اب وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بات چیت کرتے ہوئے کسانوں کو راضی کرانے کی کوشش کی ۔ کسانوں نے اپنے احتجاج کے ذریعہ مودی حکومت کی نیند حرام کردی ہے ۔ اس لیے بی جے پی کے اعلیٰ قائدین نے گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران دوسری مرتبہ اجلاس منعقد کیا ۔ کسانوں کے مسائل کی یکسوئی کے لیے ٹھوس قدم اٹھانے اور احتجاج کو ختم کرانے میں ناکام بی جے پی حکومت اب اگر طاقت کا استعمال کرنے پر غور کررہی ہے تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے ۔ دہلی کی سرحدوں کی ناکہ بندی کسانوں کو دہلی آنے سے روکنا ایک غیر جمہوری عمل ہے ۔ ہر شہری کو اپنا مسئلہ پیش کرنے اور حکومت وقت سے شکایت کرنے کا حق حاصل ہے ۔ اگر حکومت وقت اپنے فرائض سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے کسانوں اور عوام کی شکایات کو نظر انداز کرتے رہے تو آنے والے دنوں میں بی جے پی حکومت کے خلاف عوام کے اندر شدید غم و غصہ پیدا ہوگا ۔ حکومت نے 13 نومبر کو فیصلہ کیا تھا کہ وہ 3 دسمبر کو کسانوں سے ملاقات کرے گی لیکن کسانوں نے حکومت کی اس طرح کی تساہلی اور رویہ میں تکبرانہ عنصر دیکھ کر بات چیت سے انکار کیا۔ یہ مسئلہ جلد از جلد سلجھانے کا ہے لیکن حکومت نے 13 نومبر کے بعد 3 دسمبر تک بات چیت نہ کرنے کا جو فیصلہ کیا وہ ناقابل فہم ہے ۔ تیز تر فیصلے کرنے کے بجائے حکومت نے وقت لیتے ہوئے اس مسئلہ کو ٹالنے کی کوشش کی ہے ۔ گذشتہ پانچ دن سے ہزاروں کسان پانی کی پچکاریوں کا شکار ہورہے ہیں ۔ آنسو گیاس شل برسائے جارہے ہیں اور بڑی بڑی لوہے کی رکاوٹیں کھڑی کر کے پولیس ملازمین اپنے آقاؤں کے حکم کی تعمیل کررہے ہیں ۔ یہ کس طرح کی حکمرانی ہے غریب کسانوں کو پولیس کی طاقت کے ذریعہ ظلم کا شکار بنایا جارہا ہے ۔ کسان اپنے ہی ملک میں اپنے خلاف ہونے والی اپنی ہی منتخب حکومت کی خطرناک پالیسیوں پر احتجاج کررہے ہیں تو یہ ایک بڑا المیہ ہے ۔ جب عوام کی جانب سے منتخب حکومت ہی عوام پر ظلم کرے تو پھر ایک دن یہ ظلم اُلٹا پڑے گا ۔ بی جے پی حکومت نے کسانوں کی آمدنی میں دو گنا اضافہ کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ کسانوں کی اراضیات کو چھین کر ان اراضیات کو کارپوریٹ گھرانوں کو دینے کی بھی بڑے پیمانہ کی سازش کی گئی ہے ۔ زرعی قوانین کے ذریعہ مرکز نے یہی طریقہ اختیار کیا ہے کہ کسانوں کی زمین ہڑپ کر اسے بڑے تاجروں کو فروخت کی جائے ۔ کسانوں نے حکومت کی سازش کو سمجھا ہے اور وہ اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے ہی سڑکوں پر آئے ہیں ۔ اقل ترین امدادی قیمت دینے کا وعدہ محض ایک فریب ہے ۔ کسانوں سے زیادہ مارکٹ اور اگریکلچرل شعبہ میں موجود بڑے شارکوں کو فائدہ پہونچایا جارہا ہے ۔ مودی حکومت کو کسانوں کے مسائل پر فوری توجہ دیتے ہوئے بات چیت کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے ۔ احتجاجی کسانوں کو راضی کرانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اپنا رویہ تبدیل کرے ۔ طاقت کا استعمال کرنے کو ہی اصل کامیابی سمجھا جائے تو پھر مودی حکومت کے لیے کسانوں کا یہ احتجاج بہت بڑا مسئلہ پیدا کرے گا ۔۔

Source: کسانوں کا احتجاج – Siasat Daily – Urdu

  • 863