کسانوں کا احتجاج، آٹھ خصوصیات

سانوں کے احتجاج کی آٹھ باتیں خاص طور پر باتیں قابل ذکر ہیں اُنہیں اندازہ تھا کہ یہ احتجاج طویل ہوسکتا ہے اس لئے وہ اشیائے ضروریہ کی خاطرخواہ مقدار اپنے ساتھ لے کر گھر سے نکلے تاکہ غذائی ضروریات کے سبب کسی بھی مرحلہ میں احتجاج کمزور نہ ہونے پائے۔

کسانوں کا احتجاج ۔ تصویر : پی ٹی آئی

کسانوں کے احتجاج کی آٹھ باتیں خاص طور پر باتیں قابل ذکر ہیں
  اُنہیں اندازہ تھا کہ یہ احتجاج طویل ہوسکتا ہے اس لئے وہ اشیائے ضروریہ کی خاطرخواہ مقدار اپنے ساتھ لے کر گھر سے نکلے تاکہ غذائی ضروریات کے سبب کسی بھی مرحلہ میں احتجاج کمزور نہ ہونے پائے۔ دوسری اہم بات مظاہرین کے درمیان پائی جانے والی ہم آہنگی اور جذبۂ اشتراک و تعاون ہے۔ احتجاج کے ویڈیوز جو منظر عام پر آئے اور ٹی وی چینلوں پر دکھائے گئے وہ اس بات کے شاہد ہیں کہ ناشتہ،کھانا، چائے اور دیگر ضروریات پوری کرنے کا اُنہوں نے ایسا نظم کیا ہے کہ معمولی انتشار بھی دکھائی نہیں دیتا۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ متعدد تنظیموں کے ایک پلیٹ فارم پر ہونے کے باوجود ان میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ یہ تنظیمیں ایک دھاگے میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں۔ دھاگہ خدانخواستہ ٹوٹ جائے تو سارے موتی بکھر جائیں مگر ان حضرات نے دھاگے کو اتنا مضبوط رکھا ہے کہ موتیوں کے بکھرنے کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ چوتھی اہم بات اُس بیرونی دباؤ کے خلاف خود کو منظم و متحد رکھنا ہے جو دکھائی نہیں دے رہا ہے مگر یہ سمجھنا کہ کوئی دباؤ نہیں ہے سادہ لوحی ہوگی۔ کیا یہ سوچا بھی جاسکتا ہے کہ مختلف ذرائع سے کسانوں کے اس اتحاد کو توڑنے کی درِ پردہ کوشش جاری نہیںہوگی؟ پانچویں قابل ذکر بات یہ ہے کہ کسانوں نے سیاسی جماعتوں کو دور ہی رکھا ہے۔ بعض جماعتوں نے اُنہیں غذائی تعاون پیش کرنا چاہا اور احتجاج گاہ کے قریب رسوئیاں بنانے کی کوشش کی مگر احتجاج کے منتظمین نے اُسے قبول نہیں کیا بلکہ ’’ہم بھلے ہمارا لنگر بھلا‘‘ کے اُصول پر کاربند ہیں۔ سیاسی تعاون قبول کرلیا گیا ہوتا تو فوری طور پر سیاسی لیبل لگ جاتا اور اس کے غیر مؤثر ہونے میں دیر نہ لگتی۔ چھٹی بات جو منگل کو دیکھنے میں آئی وہ سرکاری چائے کی پیشکش کا جواب شکریہ او راس دعوت کے ساتھ دیا جانا ہے کہ آپ ہمارے لنگر پر تشریف لائیں۔ ساتویں اہم بات سادگی یا سادہ لوحی میں چھوٹے مفاد کیلئے بڑے اور اجتماعی مفاد کو قربان کردینے کی غلطی سے بچنا ہے۔ آٹھویں بات وعدۂ فردا پر ٹلنے سے گریز کرنا ہے۔ 
 یہ آٹھ باتیں صرف باتیں نہیں ہیں بلکہ ان میں عزت نفس، خودداری،مقصد کو ہر حال میں پیش نگاہ رکھنا، متحد رہنا اور متحد رہنے کی ضرورت کو سمجھنا، ایک دوسرے کے ساتھ افرادِ خانہ جیسا سلوک اور تعاون کرنا اور کسی بھی طرح کے بہکاوے یا افواہ سے خود کو محفوظ رکھنا جیسی قابل قدر صفات کی جلوہ گری دیکھنے کو ملتی ہے۔ انہی صفات نے اس احتجاج کو اتنا مضبوط اور مستحکم بنادیا ہے کہ حکومت کو کسی بھی قسم کی ’’چارہ جوئی‘‘ سے پہلے دس مرتبہ سوچنا پڑا ہے۔ اس سے قبل سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف ملک بھر میں شاہین باغ وجود میں آگئے تھے۔ احتجاج کو سبوتاژ ہونے سے بچائے رکھنے کی نظیر اس وقت بھی دیکھنے کو ملی تھی۔ حکومت ملک بھر کے اُس احتجاج کو بھی روک نہیں پائی تھی۔ 
 جمہوریت اُصولی باتوں پر قائل کرنے یا قائل ہونے کا نام ہے، افہام و تفہیم کا نام ہے، مساوات اور انصاف کا نام ہے۔ اسی جمہوریت کے فیض سے عوام کو اپنی بات کہنے اور منوانے کی آزادی ہے۔ ضرورت ہو تو اس کیلئے پُرامن احتجاج کا سہارا لینے کا بھی اختیار ہے۔ کسانوں کا احتجاج چونکہ اُصولی بنیادوں پر جاری ہے اس لئےیہ اور ایسا ہر احتجاج جمہوریت کو توانائی عطا کرتا ہے، کمزور نہیں کرتا

Source: Farmers Protest : Eight Features | کسانوں کا احتجاج، آٹھ خصوصیات (inquilab.com)

  • 863