سانوں کا احتجاج، مرکز سے سپریم کورٹ کی جواب طلبی

دہلی سرحدوں سے احتجاجی کسانوں کو ہٹادینے کی درخواستوں پر عدالت عظمیٰ میں سماعت

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے مرکز اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دہلی کی سرحدوں کے قریب کئی سڑکوں پر احتجاجی کسانوں کو ہٹادینے کیلئے داخل کردہ درخواستوں پر جواب طلب کیا ہے۔ یہ کسان مرکز کے نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڈے اور جسٹس اے ایس بوپنا اور وی راماسبرامنین پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے یہ بھی اشارہ دیا ہیکہ وہ حکومت اور ملک بھر کے کسانوں کے نمائندوں کی ایک کمیٹی تشکیل دے سکتی ہے تاکہ زرعی قوانین پر پیدا شدہ تعطل کو دور کیا جاسکے۔ ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ منعقدہ سماعت میں بنچ نے درخواست گذاروں کو ہدایت دی ہیکہ وہ اپنی درخواستوں میں احتجاجی کسان یونینوں کو بھی فریق بنائیں۔ عدالت عظمیٰ نے اس معاملہ کی سماعت کل جمعرات کو مقرر کی ہے۔ سپریم کورٹ کی بنچ نے مرکز سے کہا ہیکہ احتجاجی کسانوں کے ساتھ آپ کی بات چیت بظاہر اب تک کارکرد ثابت نہیں ہوئی۔ اسی دوران سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ سے کہا کہ حکومت نے کسانوں کے مفادات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ سپریم کورٹ میں کئی درخواستیں داخل کی گئی ہیں اور خواہش کی گئی ہیکہ وہ فوری حکام کو ہدایت دیتے ہوئے احتجاجی کسانوں کو سڑکوں سے ہٹایا جائے۔ اس احتجاج سے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کسانوں نے سڑکوں پر چکہ جام کیا ہے جس سے آمدورفت متاثر ہورہی ہے۔ سرحدوں پر کسانوں کا کثیر تعداد میں جمع ہونا خطرناک ہے کیونکہ اس سے کوروناوائرس کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ چلہ سرحد پر سیکوریٹی انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں۔ دہلی اور نوئیڈا کے درمیان واقع چلہ سرحد کسانوں کے احتجاج کا مرکز بن رہا ہے۔ کسان یونین کے قائدین نے دھمکی دی ہیکہ وہ مرکز کے نئے زرعی قوانین کی واپسی کیلئے دباؤ ڈالنے کیلئے اس اہم سرحد پر مکمل چکہ جام کردیں گے۔ سینئر پولیس آفیسر نے کہا کہ چلہ سرحد پر پہلے ہی سے وسیع تر سیکوریٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔ ہمہ رخی رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں۔ لا اینڈ آرڈر کی برقراری کو یقینی بنانے کیلئے زائد سیکوریٹی جوانوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ اس اہم سرحد پر کسانوں کا ایک چھوٹا گروپ احتجاج کررہا ہے۔ یہاں پر صورتحال معمول کے مطابق ہیں۔ کسان قائدین نے منگل کے دن کہا تھا کہ وہ نئے کالے قوانین کی واپسی تک مرکز پر دباؤ ڈالتے رہیں گے۔ انہوں نے زور دیا تھا کہ ان کی جدوجہد اس مرحلہ تک پہنچائی جائے گی جہاں وہ ان قوانین کا واپسی تک پیچھے نہیں ہٹیں گے چاہے اس کیلئے کچھ بھی ہوجائے۔ کسان قائدین مرکز سے بات چیت کیلئے بھی راہ فرار اختیار نہیں کررہے ہیں لیکن حکومت کو ان کے مطالبات پر غور کرنا ہوگا اور ٹھوس تجاویز کے ساتھ بات چیت کرنی ہوگی۔ دہلی سے متصل کئی سرحدوں پر ہزاروں کسان گذشتہ 21 دن سے دھرنا دے رہے ہیں۔

Source: کسانوں کا احتجاج، مرکز سے سپریم کورٹ کی جواب طلبی – Siasat Daily – Urdu

  • 863