انڈیا میں کسانوں کا احتجاج: کیا انڈیا میں کسان غریب سے غریب تر ہوتے جا رہے ہیں؟

انڈیا میں کسانوں کا احتجاج جاری ہے مگر حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مجوزہ تبدیلیوں سے کسانوں کی زندگی بہتر ہوگی۔

سنہ 2016 میں وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی نے وعدہ کیا تھا کہ 2022 تک وہ کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کردیں گے۔

لیکن کیا اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ دیہی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں آئی ہیں؟

دیہی علاقوں میں آمدنی کی صورتحال

ورلڈ بینک کے مطابق انڈیا میں 40 فیصد سے زائد لوگوں کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے۔

دیہی علاقوں میں گھریلو آمدنی سے متعلق حالیہ برسوں کے کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں لیکن دیہی آمدنی کے ایک اہم حصے زرعی اجرت سے متعلق اعداد و شمار موجود ہیں جن کے مطابق 2014 اور 2019 کے درمیان ترقی کی شرح میں کمی آئی ہے۔

کسان
،تصویر کا کیپشنکسانوں کی زرعی اجرتوں کے بڑھنے کی رفتار میں کمی آئی ہے

انڈیا میں مہنگائی کی شرح میں گذشتہ چند برسوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کی شرح 2017 میں 2.5 فیصد سے بھی کم تھی مگر 2019 میں یہ بڑھ کر 7.7 فیصد ہوگئی ہے۔

لہٰذا مزدوری کی اجرتوں میں بہتری سے کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔

انڈیا نے 2013 اور 2016 میں سروے کیے جن کے مطابق اس دورانیے میں کسانوں کی آمدنی میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسانوں کی آمدنی ایسے گھرانوں کی آمدنی کا صرف ایک تہائی ہے جو کہ کاشتکاری سے وابسہ نہیں ہیں۔

زرعی پالیسی کے ماہر دیویندر شرما کا خیال ہے کہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہوا ہے اور یہ ممکن ہے کہ اس میں کئی دہائیوں سے کمی واقع ہو رہی ہو۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘اگر ہم مہنگائی کو مدِ نظر رکھیں تو ایک ماہ میں چند ہزار (روپے) کے اضافے سے بہت زیادہ فرق نہیں پڑتا۔’

شرما زرعی اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور اجناس کی غیر یقینی قیمتوں کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں جن کا کسانوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کسان

حالیہ برسوں میں ملک میں کئی مقامات شدید موسم سے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ خشک سالی کی وجہ سے کسانوں کی آمدنی متاثر ہوئی ہے۔

کیا حکومتی اہداف پورے ہو رہے ہیں؟

سنہ 2017 میں ایک سرکاری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 2015 کے مقابلے میں 2022 میں کسانوں کی آمدنی دگنی کرنے کے لیے اسے ہر سال 10.4 فیصد کی شرح سے ترقی کرنی ہوگی۔

اور ایسا نہیں ہوا ہے۔

اس کے علاوہ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت کو کاشتکاری کے شعبے میں 6 عشاریہ 39 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت تھی۔

مگر سرکاری اور غیر سرکاری سرمایہ کاری کے متعلق اعداد و شمار سے واضح ہے کہ اس میں کمی ہوئی ہے۔

کسان

سنہ 2011-12 میں کاشت کاری میں کی گئی سرمایہ کاری حکومت کی کُل سرمایہ کاری کا صرف 8.5 فیصد حصہ تھی۔

یہ 2013-14 میں بڑھ کر 8.6 فیصد ہوئی لیکن اس کے بعد اس میں کمی درج ہوئی اور 2015 کے بعد سے یہ صرف 6 سے 7 فیصد کے درمیان ہی ہے۔

کسان قرض میں ڈوب رہے ہیں

سنہ 2016 میں نیشنل بینک فار ایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ نے ایک سرکاری سروے میں پایا کہ تین برسوں میں کسانوں پر اوسطاً قرض تقریباً دگنا ہوگیا ہے۔

بی بی سی ریئلٹی چیک نے اس سے پہلے بڑے قرضوں کا سامنا کر رہے کسانوں کی مشکلات کا بھی جائزہ لیا ہے، اور اس سیاسی بحث کا بھی کہ کیا انھیں قرضوں میں ریلیف ملنا چاہیے یا نہیں۔

مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے براہ راست مالی امداد فراہم کرنے، اور کھاد اور بیجوں پر سبسڈی اور قرضہ سکیموں جیسے دیگر اقدامات کے ذریعے کسانوں کو ریلیف دینے کی کوششیں کی ہیں۔

2019 میں مرکزی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ آٹھ 8 کروڑ کاشتکاروں کو براہِ راست نقد رقم فراہم کی جائے گی۔

اس سکیم کے تحت کاشتکاروں کو 6000 روپے سالانہ کی امدادی رقم دی جاتی ہے۔

کسان

ملک کی چھ ریاستیں پہلے سے ہی کسانوں کو نقد رقم کی منتقلی کی سکیم چلا رہی ہیں۔

دیویندر شرما کے مطابق ایسے منصوبوں سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘حکومت کسانوں کی براہِ راست امداد کے لیے سکیم لائی اور یہ ایک درست سمت میں اچھا قدم تھا۔’

لیکن ان سکیموں نے کام کیا یا نہیں یہ بتانے کے لیے ہمارے پاس ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔

کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے بنائی گئی ایک سرکاری کمیٹی کے چیئرمین اشوک دلوائی کے مطابق حکومت صحیح سمت میں گامزن ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘ہمیں اعداد و شمار کا انتظار کرنا چاہیے لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ گذشتہ تین برسوں میں ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوا ہوگا اور آنے والے وقت میں اس میں اور اضافہ ہوگا۔‘

دلوائی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ‘اندرونی جائزے’ کے مطابق چیزیں ‘صحیح سمت میں گامزن ہیں۔’

Source: انڈیا میں کسانوں کا احتجاج: کیا انڈیا میں کسان غریب سے غریب تر ہوتے جا رہے ہیں؟ – BBC News اردو

  • 863