کسانوں کا احتجاج: ۷۰؍ہزار کروڑ سے زائدکا نقصان

پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی بڑے پیمانے پرمعیشت پر اس کا اثر نظرآسکتا ہے

کسانوں کا احتجاج ۔ تصویر : پی ٹی آئی

متنازع زرعی  قوانین کے خلاف ایک طرف جہاں ملک  بھر کے کسان کے اپنے مطالبات پر اٹل ہیں ، وہیں دوسری اتنے بڑے پیمانے پر احتجاج  کے باوجود حکومت بھی ڈھٹائی کا  مظاہرہ

کرتے ہوئے اس معاملے پر ٹس سے مس ہونے کو  تیار  نہیں ہے۔ اس کاخمیازہ ملک کی معیشت کے نقصان کے طور پر بھگتنا پڑسکتا ہے۔   ویسے ہی کورونا کے کے بحران کے سبب ملک کی

معاشی حالت خستہ ہے ۔  ان حالات میں مہنگائی روز بروز بڑھتی ہی جارہی ہے اور عام آدمی   گزارہ مشکل  ہورہاہے۔ اگر آنے والے دنوں میں بھی ملک کی معیشت  تنزلی کی جانب گامزن رہی اور حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے نقصان ہوتا رہے گا تو اس کا دہرے بوجھ  سےعوام  کو  ہی  نبرد آزما ہونا پڑے گا۔
   پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق پنجاب ، ہریانہ اور دہلی میں جاری کسانوں کے احتجاج کی وجہ سے رواں مالی مال ۲۱۔۲۰۲۰ء کی تیسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر سہ ماہی) میں ۷۰؍ ہزار کروڑ روپے کا معاشی نقصان ہوسکتا ہے۔ ۔  انڈسٹری کے صدر سنجے اگروال نے  بتایا کہ کہ پنجاب ، ہریانہ اور دہلی کے سرحدی علاقوں میں کسانوں کے احتجاج کی وجہ سے ساز وسامان کی  فراہمی کا نظام  درہم برہم ہوگیا ہے۔ مذکورہ س سرحدی علاقوں میں مائیکرو ،ا سمال اور میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم  ای)پر منفی اثر پڑا ہے۔’ایم ایس ایم ای ‘مانگ کے مطابق خام مال کی فراہمی سے قاصر ہے۔ اس کے سبب  فوڈ پروسیسنگ ، کاٹن ٹیکسٹائل ، گارمنٹس ، آٹوموبائل ، فارم مشینری ، انفارمیشن ٹکنالوجی ، تجارت ، سیاحت ، مہمان نوازی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔  اس  کے سبب  ان کے نقصان میں  مسلسل اضافہ ہوتا  جارہا ہے۔۔
 پی ایچ ڈی چیمبر کا کہنا ہے کہ پنجاب اور ہریانہ میں ۲۵؍لاکھ سے زیادہ  ایسی صنعتیں ہیں۔ ان میں ۴۵؍لاکھ سے زیادہ مزدور ملازم ہیں۔ ان چھوٹی صنعتوں نے پنجاب اور ہریانہ میں۱۴؍ لاکھ کروڑ روپئے کی جی ایس ڈی پی میں۴؍ لاکھ کروڑ روپے کا تعاون کیا ہے۔
  واضح رہے کہ  ملک بھر میں چھوٹے پیمانے کی صنعتیںپہلے کووڈ ۱۹؍ کے سبب سرمایہ کی کمی،  مزدوروں کی کمی ، خام مال کی قیمتوں میں اضافے ، نقل و حمل اور دیگر مسائل سے دوچار ہے۔ اب ان کے نقصان میں مزید اضافہ اور زیادہ سنگین بحران پیدا کرسکتا ہے۔ 
اس سے قبل  مختلف ادارے بھی متنبہ کرچکے ہیں
  وہیں گزشتہ دنوں’ دی  اسوسی ا یٹیڈ چیمبرس  آف کامرس اینڈ انڈسٹری  آفف  انڈیا‘ نے بھی  کہا تھا کہ کسانوں  کے  احتجاج اور حکومت کی طرف سے  اس پر مژبت پیش رفت  نہیں ہونے کی وجہ سے روزانہ ۳۵۰۰؍ کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ اس کا اثر پنجاب ، ہریانہ اور ہماچل پردیش جیسی ریاستوںکی معیشتوں پر بھی  پڑا ہے۔ اسلئے حکومت کو کسانوں کے مسا ئل جلد ازجلد حل کرنے چاہئے۔ مذکورہ ادارے کے  مطابق ان ریاستوں کی معیشت بنیادی طور پر زراعت اور باغبانی پر مبنی ہے۔ وہیںفوڈ پروسیسنگ ، سوتی ٹیکسٹائل ، آٹوموبائل ، فارم مشینری اور آئی ٹی جیسی صنعتیں بھی ان ریاستوں کی لائف لائن ہیں۔ پنجاب ، ہماچل پردیش ، ہریانہ اور جموں وکشمیر  میں ملک کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ ملک بھر میں جاری احتجاج کی وجہ سے سڑکیں ، ٹول پلازہ اور  دیگرامور معمول کے مطابق  سرگرمیاں انجام  نہیں دے پارہے ہیں۔اسوسی ایشن کے جنرل  سیکریٹری  دیپک سود نے کہا  تھاکہ  ٹیکسٹائل ، آٹو  پارٹس ، سائیکل اور کھیلوں کی مصنوعات جیسی صنعتیں اپنے برآمدی آرڈر کو پورا نہیں کر پارہے ہیں۔ سپلائی چین متاثر ہونے کی وجہ سے مذکورہ اشیاء کے علاوہ پھلوں اور سبزیوں کی خوردہ قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
 کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز (سی اے ٹی)  نے بھی گزشتہ دنو ں ایسا ہی  بیان دیا تھا کہ دہلی اور آس پاس کی ریاستوں میں تقریباً ہزار کروڑ کی تجارت متاثر ہوئی ہے۔ اگرمعاملات جلد حل نہ ہوئے تاجروں کو مزید نقصان ہوگا

Source: Farmers protest : Loss of more than rs 70 thousand crore | کسانوں کا احتجاج: ۷۰؍ہزار کروڑ سے زائدکا نقصان (inquilab.com)

  • 863