انڈیا کی حکومت اور کسانوں کا احتجاج: دہلی کے گرد ’جنگی سطح کی قلعہ بندی‘

انڈیا کے دارالحکومت دہلی کی دوسری ریاستوں سے ملنے والی سرحدوں پر آہنی کیلوں، سلاخوں، خاردار تاروں، پتھروں اور عارضی دیواروں کا استعمال کیا جارہا ہے تاکہ زرعی قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والے کسان دہلی میں داخل نہ ہو سکیں۔

حکومت کے نئے زرعی قوانین سے پیدا ہونے والے تناؤ کے نتیجہ میں کیے جانے والے ان اقدامات کو بعض کسانوں نے ’جنگی سطح‘ کی تیاری کہا ہے۔

تین ماہ سے جاری یہ احتجاج وزیر اعظم نریندر مودی کو درپیش اب تک کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ان کی حکومت نے قوانین کو معطل کرنے کی پیش کش کی تھی لیکن کسان چاہتے ہیں کہ ان کو مکمل طور پر منسوخ کر دیا جائے۔

معاملات گزشتہ ہفتے اس وقت خراب ہوگئے جب بڑے پیمانے پر منعقدہ ایک ٹریکٹر ریلی میں شریک ہزاروں کسان دہلی میں داخل ہو گئے اور مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ درجنوں افسران زخمی ہوئے اور مظاہرین میں سے ایک کی موت ہوگئی۔ کسانوں کے گروپ اور یونین کے رہنماؤں نے تشدد کی مذمت کی لیکن کہا کہ وہ اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے۔

کسان دہلی میں احتجاج

اب وہ سنیچر کے روز قومی دارالحکومت جانے والی شاہراہوں کو روکنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دریں اثنا احتجاج کے مقامات سنگھو، غازی پور اور ٹکڑی جیسے مقامات پر صورتحال رفتہ رفتہ کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

دہلی اور اس سے ملحق ریاست اتر پردیش نے دھرنے کے مقامات پر ڈرونز بھی استعمال کر رہی ہے اور مظاہرے کے آس پاس کے علاقے کو بند کرنا شروع کردیا ہے جو کہ کسانوں کو شہر میں داخل ہونے سے باز رکھنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

دہلی پولیس کمشنر ایس این شریواستو نے شہر کے گرد رکاوٹیں لگانے کا دفاع کیا ہے۔ انھوں نے خبررساں ادارے اے این آئی کو بتایا: ‘مجھے حیرت ہے کہ جب 26 جنوری کو ٹریکٹر استعمال کیے گئے، پولیس پر حملہ کیا گیا، بیریکیڈ توڑے گئے تو کوئی سوال نہیں اٹھا گیا۔

‘اب ہم نے کیا کیا ہے؟ ہم نے صرف بیریکیڈنگ کو مضبوط کیا ہے تاکہ دوبارہ اسے توڑا نہ جا سکے۔’

مظاہرین

دہلی – ہریانہ سرحد پر ٹکڑی کے احتجاج کے مقام تک جانے والی سڑک کو پولیس عہدیداروں نے بند کر دیا ہے وہاں کنکریٹ کی بڑی بڑی رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اور سڑک پر لوہے کی بڑی بڑی کیلیں لگائی گئی ہیں۔

کسان سوشل آرمی کے ایک رکن انوپ چناوت نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ حکومت کا کہنا ہے کہ ہم صرف ایک فون کال کی دوری پر ہیں۔ ‘لیکن پھر انھوں نے اس طرح سے بیرکیڈنگ لگائی دی جیسے کہ ہم کسی بین الاقوامی سرحد پر ہوں۔’

کسانوں نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ‘ہم پر امن طریقے سے اپنے محاذ پر بیٹھے ہیں اور ہم بیٹھے رہیں گے۔ لیکن اگر ہم پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنے کے لئے آگے بڑھنا چاہیں گے تو یہ رکاوٹیں ہمیں نہیں روک سکیں گی۔’

سوشل میڈیا پر بہت سارے لوگوں نے احتجاجی مظاہروں کے قریب ’جنگی حصار‘ بنانے کو بین الاقوامی سرحدوں پر باڑ لگانے سے تشبیہ دی ہے۔

کسان رہنما ٹکیت

انڈیا کے ٹاپ ٹوئٹر ٹریںڈز میں FencinglikeChinaPak# شامل تھا اور بہت سے لوگوں نے ’غیر ضروری‘ اقدامات پر تبصرہ کیا۔

ٹریکٹرٹو ٹوئٹر نامی صارف نے لکھا: ہم اسے انانیت کی دیوار کہتے ہیں۔ آپ اسے کیا کہیں گے؟ حکومت نے ایسا کیوں کیا؟ ہمیں بتائیے۔ بس آپ کی معلومات کے لیے یہ کوئی ہند پاک یا ہند چین بارڈر نہیں ہے۔

Twitter پوسٹ کا اختتام, 1

اسی طرح خواتین ایکٹوسٹ کویتا کرشنن نے لکھا: ‘سندھو، ٹکڑی اور غازی پور کے باہر پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ذریعے کھڑے کیے جانے والے قلع بند کیمپ ہمیں ایسٹرکس گاؤں کے پاس رومن کیمپ کی یاد دلاتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ناقابل تسخیر گالز اور رومن فوج کے درمیان ہونے والے ہر ایک جھگڑے میں کس کی جیت ہوئی تھی۔’

دہلی – اترپردیش بارڈر کے احتجاجی مقام پر اتوار کی شام سے ہی زبردست قلعہ بندی شروع کر دی گئی ہے۔ یوپی سے دہلی جانے والی تمام سڑکیں بند کردی گئیں ہیں۔ یہاں تک کہ واک وے اور فٹ پاتھوں کو بھی بند کردیا گیا ہے۔

Twitter پوسٹ کا اختتام, 2

غازی پور اور سنگھو بارڈر کی مرکزی سڑکوں پر خار دار تاروں کے لچھے، بھاری دھات کی رکاوٹیں، پتھروں کے بولڈر اور کنکریٹ کی رکاوٹوں کی قطارکھڑی کر دی گئی ہے۔

خاردار تاروں کے لچھے اور کنکریٹ کے سلیب یہاں کی بھی سڑکوں کو بند کرنے کے لیے لگائے گئے ہیں اور ٹکڑی کی طرح ہی غازی پور بارڈر پر بھی لوہے کی بڑی بڑی کیلیں نصب کی گئی ہیں۔

کیلیں

کے سی سنگھ نے لکھا کہ ‘لوہے کی کیلیں مناسب تھی اور انھیں آسانی سے نکالا جا سکتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ پولیس کے خیال میں یہ سڑکیں جلد کھلنے والی نہیں ہیں یا پھر یہ نفسیاتی جنگ ہے؟’

احتجاج کرنے والے مقام پر پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اعلیٰ سطح سے سکیورٹی بڑھانے کے احکامات موصول ہوئے ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے یہ اقدامات اس لیے کیے ہیں تاکہ مظاہرے کے مقام پر مظاہرین کے خیموں کی تعداد میں اضافہ نہ ہو۔

بی بی سی ہندی کے سمیرآتماج مشر نے اطلاع دی ہے کہ خاردار تاروں اور کنکریٹ کے بلاکوں کے باعث ایک ایمبولینس کو بھی واپس مڑنا پڑا۔

رکاوٹیں

سوموار کی شام کنکریٹ کے سلیبوں کے درمیان پتھر ڈالے گئے تاکہ انھیں ہلایا نہ جاسکے۔ اس کے علاوہ قطار در قطار دھات اور پتھر کی رکاوٹیں بھی مرکزی شاہراہ پھر کھڑی کی گئی ہیں۔

احتجاج کے مقامات سے ٹویٹر، فیس بک اور انسٹاگرام پر ڈالی جانے والی ویڈیوز اور تصاویر میں ان رکاوٹوں کو دیکھا جا سکتا ہے جبکہ بہت سے لوگ سکیورٹی کے ان اقدام پر غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

سنگھو بارڈر پر دہلی کی طرف بیریکیڈنگ دو کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ سڑک کھود دی گئی ہے۔ صرف منتخب گاڑیوں کو بیریکیڈنگ سے آگے جانے کی اجازت دی جارہی ہے، لیکن میڈیا کی گاڑیوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ تمام راستوں کو بند کردیا گیا ہے۔

رکاوٹیں

سنگھو بارڈر پر موجود ایک کسان رہنما نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ‘مودی حکومت دہلی اور ہریانہ کی سرحد پر دیوار بنا رہی ہے جیسا کہ ٹرمپ نے امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر بنانے کا اعلان کیا تھا۔’

کسان رہنماؤں نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر حکومت مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو اسے پہلے بات چیت کی فضا پیدا کرنا ہوگی۔

انھوں نے کہا: ‘حکومت تمام غیر انسانی اقدامات کررہی ہے۔ اس میں بجلی کاٹنا، پانی بند کرنا اور انٹرنیٹ بند کرنا شامل ہے۔ اب حکومت راہ میں رکاوٹ کھڑی کر رہی ہے۔ اسے فوری طور پر رکنا چاہیے۔’

Source: انڈیا کی حکومت اور کسانوں کا احتجاج: دہلی کے گرد ’جنگی سطح کی قلعہ بندی‘ – BBC News اردو

  • 712