اگر کسانوں کا احتجاج کمزور ہوگیا تو ملک کانقصان ہوگا

کسان سنگھرش سمیتی اورہم بھارت کےلوگ کی جانب سےکسانوں کی حمایت میں شہر ومضافات میں ۵۰؍تا۶۰؍میٹنگیں کرنے کا فیصلہ، متعددمیٹنگیں مذہبی مقامات کے باہربھی ہوںگی

علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

 پر۵۰؍تا ۶۰چھوٹی بڑی میٹنگیں کرنے کا فیصلہ کیا ہے اوراس کا آغازبھی کردیاگیا ہے۔اس میٹنگ کے آغازسے ایک دن قبل وڈالا میں ’مٹی ستیہ گرہ ‘بھی شروع کیا گیا ہے۔ساتھ ہی  ان میٹنگوں میں اس بات کاخیال رکھا جارہا ہے اورمنتظمین کواس بات کی خاص ہدایت دی جا رہی ہے کہ کووڈ۱۹؍ سےمتعلق حکومت کی ہدایات کاپورا خیال رکھتے ہوئے حاضرین ماسک لگائیں، تعداد بھی محدود رہے اور سماجی فاصلہ بھی قائم رکھاجائے تاکہ کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔
 دوسری جانب مودی حکومت کی جانب سےڈانڈی مارچ کے تعلق سے۱۲؍مارچ سے جو مہوتسو شروع کیا گیا ہے اس پر سی پی آئی ایم ممبئی کے سیکریٹری پرکاش ریڈی نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیںاس مہوتسو کاکوئی حق نہیںہے کیونکہ یہ وہ جماعت ہے جو اس کی مخالف تھی ، آج یہ دکھانے بلکہ لوگوں کوگمراہ کرنےکی کوشش کی جارہی ہے اوردوسری جانب گاندھی نظریات  اورآئین کی جڑیں کمزور کی جارہی ہیں۔ ‘‘
  انہوں نے یہ بھی بتایاکہ’’ ۲۳؍مارچ کوشہید دوس کی مناسبت سے بھی کسانوں کی حمایت میںالگ الگ تقریبات کی تیاری کی جارہی ہے اوردیگر تنظیمیں بھی حسب ترتیب اپنے اپنے طورپر کسانوں کی حمایت میںمختلف طریقوں سے اپنا پروگرام طے کررہی ہیں ۔ ان تمام کوششوں کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ہر جانب سے کسانوں کی حمایت میںآوازبلند کی جائے اورایسا محسوس نہ ہو کہ مارچ کے شروع سے کسانوں کااحتجاج کمزور ہوگیا ہے یا وہ طاقت نہیںرہ گئی ہے جو اس سے قبل تھی بلکہ اس سے زیادہ جوش وخروش کے ساتھ سیاہ قانون واپس لینے تک یہ احتجاج جاری رکھنا ہے ۔ ‘‘
ہر ذات برادری کے لوگو ں کوجوڑنا ہے
 سنگھرش سمیتی میںشامل امول مڈامے نے بتایاکہ’’ مٹی ستیہ گرہ کے بعد یہ طے کیا گیا ہے کہ کن کن مقامات پرمیٹنگیں ہوں گی اورذمہ داری بھی سونپ دی گئی ہے تاکہ کوووڈ کی گائیڈ لائن میںکوئی گڑبڑ نہ ہو اورکسی قسم کی بے احتیاطی نہ ہونے پائے۔ ان میٹنگوں کا مقصد یہی ہے کہ ہرذات ،برادری اورقوم کے لوگوں کو کسانوں کی حمایت سے جوڑاجائے اورحالات کی مناسبت سے جب ممبئی میںکسی بڑے احتجاج کی تیاری کا اعلان کیا جائے توتمام لوگوں کابھرپور ساتھ رہے ۔‘‘ ورشا ودیا ولاس نےبتایا کہ ’’ نائیگاؤں میں سنیچر کو اس تعلق سے میٹنگ کے دوران کسانوں کے احتجاج اوراس وقت کسان کس طرح سے احتجاج اورپنچایت کررہے ہیں ،اسے لوگوں کو بتانے کے ساتھ انہیں یہ پیغام دیا گیا کہ کسانوں کا احتجاج کتنا اہم ہےاورہرطبقے کا تعاون کس قدر ضروری ہے ۔ ساتھ ہی یہ انتباہ بھی دیاگیا کہ اگر یہ احتجاج کمزور ہوگیا توصرف کسانوں کا ہی نہیںبلکہ ملک کانقصان ہوگا۔‘‘ پوجا بڈیکرنے بتایا کہ ’’ سنگھرش سمیتی اورہم بھارت کے لوگ ‘کی جانب سے صرف میٹنگ ہی نہیںشروع کی گئی ہے بلکہ ہرعلاقے میںہونے والی میٹنگوںکے بارے میںذمہ داران کو بتا بھی دیا گیا ہے ۔ اس کےعلاوہ دہلی میںذمہ داران کی جانب سے جو بھی پیغام دیاجاتا ہے اسے بھی اپنے اپنے گروپ میںعام کرنے کوکہاگیا ہے تاکہ ملک کاہر شخص کسانوں کے احتجاج اور ان کی جانب سے سیاہ قوانین کے خلاف کیا کیا سرگرمیاں انجام دی  جاری ہیں،پوری طرح سے باخبررہ سکے 

Source: If The Farmers` Protest Weakens, The Country Will Suffer|اگر کسانوں کا احتجاج کمزور ہوگیا تو ملک کانقصان ہوگا (inquilab.com)

  • 755